٢٥۔ کارن

 

 

مرشد کے آگے میں نے جو سر کو جھکا دیا !

زاہد نے انتی بات پہ محشراٹهـا دیا !!

 

واقف نہیں تھا میں کبھی پیری مریدی سے !

مرشد نے میرے مجھ کو بھی کلمہ پڑھا دیا !!

 

دیدار سے خدا کے تھا محروم کل تلک !

نظریں ملا ملا کے بھی رب کو دکھا دیا !!

 

روزہ زکواۃ اور نمازیں ادا ہوئیں !

بعیت کے وقت پیر نے حج بھی کرا دیا !!

 

سنگ سیاہ چومنا لازم بھی تھا مجھے !

دل میرا رکھ کے سامنے بوسہ کرا دیا !!

 

غیروں کے سامنے کبھی کھلنے نہ پائے راز !

اس واسطے وہ میری زباں کو کٹا دیا !!

 

ائی جو یاد مجھ کو شہادت حسین کی !

وقت سجود تیغ سے گردن اڑا دیا !!

 

کتنے عناصروں سے یہ میرا وجود ہے !

اک آن میں نگا ہوں کے آگے دکھا دیا !!

 

اس تن میں مخفیا تھا مراے سینہ چیرکر !

گنخ خفی کا راز بھی ظاہر کرا دیا !!

 

محروم مصطفے کے نہیں ہوں جمال سے !

پیارے نبی کو لاکے نظر میں سما دیا !!

 

اپنے وجود میں ہی پتہ مجھ کو جب ملا !

میرے یہ جسم خاکی کے ٹکڑے اڑا دیا !!

 

 قرآن رکھ کے لے لیا اقرار پیرنے !

اور مجھکو باتوں باتوں میں قرآن پڑھا دیا !!

 

دل صاف کر کے رکھ دیا میرے حضور نے !

انحد کا جو مقام ہے وہ بھی بتا دیا !!

 

میں کس مقام پر ہوں خدا کس مقام پر !

میرا وجود میرے ہی آگے دکھا دیا !!

 

صدقے میں جاؤں مرشد کامل رفیق کے !

داور ہزار پردوں میں رب سے ملا دیا !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔