مرشد کے آگے میں نے جو سر کو جھکا دیا !
زاہد نے انتی بات پہ محشراٹهـا دیا !!
واقف نہیں تھا میں کبھی پیری مریدی سے !
مرشد نے میرے مجھ کو بھی کلمہ پڑھا دیا !!
دیدار سے خدا کے تھا محروم کل تلک !
نظریں ملا ملا کے بھی رب کو دکھا دیا !!
روزہ زکواۃ اور نمازیں ادا ہوئیں !
بعیت کے وقت پیر نے حج بھی کرا دیا !!
سنگ سیاہ چومنا لازم بھی تھا مجھے !
دل میرا رکھ کے سامنے بوسہ کرا دیا !!
غیروں کے سامنے کبھی کھلنے نہ پائے راز !
اس واسطے وہ میری زباں کو کٹا دیا !!
ائی جو یاد مجھ کو شہادت حسین کی !
وقت سجود تیغ سے گردن اڑا دیا !!
کتنے عناصروں سے یہ میرا وجود ہے !
اک آن میں نگا ہوں کے آگے دکھا دیا !!
اس تن میں مخفیا تھا مراے سینہ چیرکر !
گنخ خفی کا راز بھی ظاہر کرا دیا !!
محروم مصطفے کے نہیں ہوں جمال سے !
پیارے نبی کو لاکے نظر میں سما دیا !!
اپنے وجود میں ہی پتہ مجھ کو جب ملا !
میرے یہ جسم خاکی کے ٹکڑے اڑا دیا !!
قرآن رکھ کے لے لیا اقرار پیرنے !
اور مجھکو باتوں باتوں میں قرآن پڑھا دیا !!
دل صاف کر کے رکھ دیا میرے حضور نے !
انحد کا جو مقام ہے وہ بھی بتا دیا !!
میں کس مقام پر ہوں خدا کس مقام پر !
میرا وجود میرے ہی آگے دکھا دیا !!
صدقے میں جاؤں مرشد کامل رفیق کے !
داور ہزار پردوں میں رب سے ملا دیا !!