۷۔ خدایا

 

 

خدایا اتنی ہمت دے ہیں تو اس زمانے میں !

قدم نہ ڈگمگا یئں یہ کسی کے آزمانے میں !!

 

تڑپ جاتا ہے سینہ جب ترا اقرار ہوتا ہے !

نکل جائے ہمار ادم حقیقت کے ترانے میں !!

 

کوئی سمجھا نہیں رتبہ ترا ابتک کہ تو کیا ہے !

بہت سے عاشقوں کو تول ڈال تو زمانے میں!!

 

میں وہ موسئ نہیں جو ہوش کھو بیٹھونگا جلووں سے !

میں ہوں دیدار کا طالب  تیرے اس کار خانے میں !!

 

کہاں جائیں کدھر جائیں نہں ہے دوسری چوکھٹ !

نہیں ہے اور کوئی در بہت ڈھونڈا زمانے میں !!

 

ہزاروں رنج و غم سے دور ہو جاتا ایک پل میں !

بڑی تسکین ہو جاتی ہے تیرے مسکرا نے میں !!

 

کرم تیارا اگر ہوجائے میں سرشار ہو جاؤں !

ہے داور طالب دیدار یارب اس زمانے میں !

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔