۵۔ اپنا رب

 

اپنارب تویہاں بے پردا ہے !

ہم نے باطن کی آنکھوں سے دکھا ہے !!

 

وہ تو ہر وقت اپنی نگاہوں میں ہے !

ذرہ ذرہ میں موجود راہوں میں ہے !

تو ہر ایک نفس کے پناہوں میں ہے !

طور سیناکی وه جلوه گاہوں میں ہے !

 

روبرو ہر گھڑی اس کا چھرا ہے !!

اپنا رب تو یہاں بے پردا ہے !!

 

ہے گواہی میں قرآں تو دیکھ لے !

دلمیں تیرے جو ہے جستجو دیکھ لے !

ہوگی پوری تری آرزو دیکھ لے !

سوچتا کیا ہے تو روبرو دیکھے لے !

 

ہرطرف بس اسی کا چہیرا ہے !!

اپنارب تو یہاں بے پردا ہے !!

 

شمس تبریز نے بھی ہے دکھی اسے !

صوفی سرمد نے کالم میں پکڑا اسے !

دار پر چڑھکے منصور پایا اسے !

سب نے ملکر بنایا تماشااسے !

 

پارسا ہو کے پھر بھی تو رسوا ہے !!

اپنارب تو یہاں بے پرداہے!!

 

اس نے انساں کو سب کچھ کیا عطا !

جسم انساں میں رکھا ہے اپنا پتا !

ہم نہ ڈھوڈیں تو یہ ہے ہماری خطا !

اپنی نظروں سے ہر گز نہیں لاپتا !

 

کون کہتا مقام اس کا سدرا ہے !!

اپنا رب تو یہاں بے پردا ہے !!

 

میں رفیقی گلستاں کا اک پھول ہوں !

خاک پائے منور کی میں دھول ہوں !

گنج گوھر کے رازوں میں مشغول ہوں !

غوث کے میں غلاموں میں مقبول ہوں !

 

سروری کا تو داور یہ صدقہ ہے !!

اپنارب تو یہاں بے پردا ہے۔

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔