ترا زکر میری زبان پرتیری شان فصل بہارہے !
نظر آیا مجھ کو تو ہر جگہ کبھی طور پر کبھی دار پر !!
تومکین ہے توہی لامکاں تری ذات مالک دوجہاں !
تو ہی بادشاہ ملک و جن توجھلک گیا ہے پکار پر !!
تیرا حسن حسن یقین ہے یہاں اب گماں کا گزر نہیں !
توکلی کلی سے نمایاں ہے تراحسن گل کے نکھار پر !!
ترا نام وجہ سکون ہے تری یاد دل کابھی چین ہے !
کبھی بے قرار ہوا جو میں تجھے پایا دل کے قرار پر !!
تجھے لا کہوں کہ الا کہوں یہ میری سمجھ سے تو دور ہے !
توہی انتا بھی ہے تو ہی آنا ترا حسن آئینہ دار پر !!
تو عیاں بھی تھا تو نہاں بھی تھا تو خفی بھی تھا تو جلی بھی تھا !
ترا پردہ میں نے اٹھا دیا تو ہی اب لیل و نهار پر !!
جو تو کن نہ کہتا میرے خدا تجھے جانتے نہ ملک بشر !
وہی لفظ کل کا وجود ہے وہ ارادہ تیر اقرار پر !!
تواحد کے جال میں بند تھا تو اکیلا اپنی پسند تها !
تو شریک میم کو جب کیا تو نثار ہو گیا یار پر !!
تو رفیق میرا نظر نظر یہ مرا سجود قدم قدم !
میں وہی ہوں داور بے نوا جسے تو بلایا ہے دار پر !!