یہ ہم سے نہ پوچھو اپنے مرشد سے پوچھو
مرشد سے پوچھو اپنے مرشد سے پوچھو
کلمہ کی کل توڑ کے میں کلمہ بنایا لا کہنے میں لایا عارف کو منایا
گراہل خرد تو یہ جلدی سے سمجھلو عارف کو پکڑلو پوچھو میرا مسئلہ یہ کیا ہے معمہ
میں کون ہوں کیا ہوں سمجھتے ہمیں کیا ہو تم کون ہو کیا ہو مجھے بتلاو کہاں ہو اور کس سے عیاں ہو
میں کیسا ہوں کیا ہوں تجھے بتلاؤں کہاں ہو تم کون تھے کیا تھے کیسے تھے کہاں تھے
جب کچھ بھی نہیں تھا تو کہو کون تھا پہلے کوئی تھا یا اگیلے اس وقت کا عالم کہو کیسا تھا اور کیا تھا
ظلمات کی آندھی تھی اندھیرا تھا اندھیرا ہوا کب یہ اُجالا کیا کہنے سے آیا کون سُنا تھا
عدم ہی تھا آدم نہ تھا نیتی میں کون تھا نام اسکا اب ہوا پہلے کہو کیا نام تھا
آدم ہو تو بولو مجھے آدم کی حقیقت آدم کو بنایا ہے تو تھی کونسی نسبت اور کیا تھی محبت
کہنے کو تو آسان ہے یہ ھو ھو کی بولی ھو ھو کا جو عالم ہے ہمیشہ سے ہے خالی
وہ ھو بھی پریشاں تھا تنہائی میں پہلے جب نور محمد ہوا ظاہر جو مرد کو اللہ صمر کو
کہتی ہے جہاں ساری اللہ ہی بڑا ہے اور اُسکا جہاں ہے سچ بولو کہ کیا ہے کون سب سے بڑا ہے
پہلے کہو امداد خُدا کِسنے شروع کی تاعت کا یہ مسلہ ہوا آغاز کس سے حق بات میں ہوں کہ آغاز نبی سے
اے ساقی کوثر ہو منور کے منور گوہر کے بھی گوہر داور کے بھی داور اور شافی محشر
اُمت کے پیغمبر ہم سب کے ہیں رہبر ہو نور سراپا آقا میرے آقا داور تیرا خادم یہ حقیقت کو سُنایا