٩٦۔ اُجالا نہیں چاہیے

 

رُباعی

 

بھلایا ہے جسے دل نے اسے پھر یاد نہ کرنا

عدد ئے دشمن دل کو کبھی بھی شاد نہ کرنا

خوشی سے زہر پی لینا مگر فریاد نہ کرنا

بڑی دولت ہے خدادی اسے برباد نہ کرنا

 

 

 

چھین کر کے کوئی میری خُداریاں بھیک کا دینے والا نہیں چاہیئے

جس شمع میں جلے تیل خیرات کا وہ شمع اُجالا نہیں چاہیئے

 

روکھی سوکھی ہی کھا کر گزارا کروں عیش و عشرت کی مجھکو ضرورت نہیں

جس نوالے میں فیض ہدایت نہیں اس طرح کا نوالہ نہیں چاہیئے

 

روزی روٹی کا ضامن ہے میرا خُدا ساری خلقت کا رزاق میرا خُدا

جائزا ایک لقمہ ہی کافی مجھے یہ ناجائز نوالہ نہیں چاہیئے

 

اے خُدا تجھ سے بس ہے یہی التجا وقت آخر کسی کا نہ عاجر بنا

مجھکو دُنیا میں ہر گز نہ بدنام کر نام بدکار والا نہیں چاہیئے

 

اے خدا مجھکو انسان ایسا بنا تیرے بندوں کو بخشوں میں صدقہ تیرا

میں دکھا دوں گا ان سب کو جلوہ تیرا اب کوئی دھرم شالا نہیں چاہیئے

 

مال و دولت کی مجھکو ضرورت نہیں شاہی محلوں کی بھی مجھکو حاجت نہیں

میں ہمیشہ رہوں تیرے در کا گدہ نام وہ بول بالا نہیں چاہیئے

 

اے خدا تیرے داور کی ہے التجا نور شمع ہدایت تو دل میں جلا

روشنی اتنی کافی ہے میرے لئے غیر گھر کا اجالا نہیں چاہیئے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔