٩٥۔ فِدا ہو گئے

 

 

ہم تیرے آشنا ہو گئے

سارے وعدے وفا ہو گئے

 

تیرے قدموں پر سر رکھ دیا

سارے سجدے ادا ہو گئے

 

تیری آنکھوں سے پی کر شراب

ہم بڑے پارسا ہو گئے

 

جو گئے ہیں تجھے دیکھکر

اُن کے دِل آعٔینہ ہو گئے

 

جو بھی تھامے ہے دامن تیرا

دیکھو وہ کیا سے کیا ہو گئے

 

تجھ سے خیرات جس نے بھی لی

وہ بھی بادشا ہو گئے

 

تیری صورت کسی کی نہیں

تجھے پہ داور فدا ہو گئے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔