ہم کاروبار دیر و حرم دیکھتے ہے!
نزدیک سے خدا کی قسم دیکھتے رہے!!
جو کچھ بھی ہم کو ملنا ہے مل جائیگا کبھی!
ہم وہ نہیں جو دست کرم دیکھتے ہے!!
گیسو سنوارنا تو فقط کام ہے اپنا!
کتنے ہیں پیچ کتنے ہیں خم دیکھتے رہے!!
صورت ہم اپنی دیکھتے ہیں انکی آنکھ میں!
آئینہ رکھ کے سامنے ہم دیکھتے رہے!!
آزار ہم کو سہنے کی عادت سی ہوگئی!
باقی ہیں اور کتنے ستم دیکھتے رہے!!
جام وصال ہمکو غنیمت ہے ساقیا!
اوروں کی طرح ساغر جم دیکھتے رہے!!
اپنی نظر کو خوب ہے نظارۂ جمال!
جب دیکھتے ہیں جلوہ تو ہم دیکھتے رہے!!
سجدوں سے ہم کو کام ہے اور بندگی عزیز!
ہم بتکدے روۓ صنم دیکھتے رہے!!
داور ہم اپنی فکر رسا کے طفیل میں!
قرطاس اور نوک قلم دیکھتے رہے!!