٩١۔ شمع جلتی نہیں ہے

 

 

طبیعت اب اپنی سنبھلتی نہیں ہے

کِسی انجمن میں بہلتی نہیں ہے

 

ہے دل ایک مسکن سبھی حسرتوں کا

تمنا کوئی بھی نِکلتی نہیں ہے

 

خُدا جانے اُلفت کو کیا ہوگیا ہے

یہ کمبخت کروٹ بدلتی نہیں ہے

 

ہے وحشت میری صرف تنہائیوں میں

گلستاں میں جاکر ٹہلتی نہیں ہے

 

بہت سمجھایا ہے میں نے زندگانی کو

میرے ساتھ ہو کر وہ چلتی نہیں ہے

 

پتنگوں کا انجام کیوں ہے ابھی سے

سرِ شام شمع تو جلتی نہیں ہے

 

نہیں موت کو کوئی ملتا ہے داور

یہ کسی نے کہا ہاتھ ملتی نہیں ہے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔