٩٠۔ حسن سے جاگیر کھینچ لی

 

 

باب اثر سے میں نے تو تاثیر کھینچ لی!

دیکھا نہیں ہے یار کو تصویر کھینچ لی!!

 

ان کو بٹھا کے سامنے کرتا ہوں میں سجود!

اپنی جبین ناز پہ تحریر کھینچ لی!!

 

وہ مصحف جمال نگاہوں میں ہے مرے!

آنکھوں میں اس حسینہ کی تنویر کھینچ لی!!

 

والیل اور شمس مذاق نظر میں ہیں!

جیسے قرآن پاک کی تفسیر کھینچ لی!!

 

کرتا ہوں بات رکھ کے حدیث و دلیل سے!

میں نے زبان شیخ سے تقریرکھینچ لی!!

 

دیر وحرم ہو تم کو مبارک اے دوستو!

ہم نے کسی کے حسن سے جاگیر کھینچ لی!!

 

داور  میری  حیات میں اب پیچ وخم نہیں!

ماتھے سے اس نے زلف گرہ گیر کھینچ لی!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔