سبھی ڈھونڈتے ہیں زمانے میں رب کو وہ بیٹھا ہے دل کے نگینے میں اکر
اسے دیکھنے کی ہے جسکو تمنا وہ دل کے دریچوں میں جھانکے نجھا کر
پتہ نحن اقرب کا جس نے دیا ہے وہ خود کہ دیا ہے ہوں شہ رگ سے نزدیک
کہ غفلت میں رہ کر نہ پاؤ گے اسکو کہ تم اس کو دیکھو طریقت میں آکر
خودی ہو تو دل میں خدا نہ ملے گا دوئی ہو تو دل میں پتہ نہ چلے گا
اسے گر ہے پانا خودی کو مٹا دو اسے دیکھ پاؤ گے غفلت ہٹا کر
کبھی نہ ملے گا خدا دل کے باہر ازل سے بسا ہے وہ انسان کے اندر
جو انساں کا دل ہے وہ عرش معلہ وہ رہتا ہے دل کو ہی مسکن بنا کر
یہ بازار دنیا ہے سب کچھ کما لو اسی دہر میں اپنے مولا کو پالو
یہاں نہ جو نہ دیکھا وہاں کا ہے اندھا ملے گا یقیں وہ یہیں پر برابر
کفر توڑ کر کے رسول خدا نے پڑھائے ہیں ہم کو شہادت کا کلمہ
دکھاۓ ہیں دیدار ہم کو خدا کا وہ مومن بنائے ہیں سب کو سراسر
زباں جھوٹی داور کی مرشد ہیں کاٹے یہ ہستی کے اندر ہی سب کچھ دکھا کے
خدا کی جو قدرت ہے انساں کے اندر مجھے وہ دکھائے ہیں بعیت میں لاکر