٨٨۔ اپنا خدا بنا لیں گے

 

 

ہم اپنے آپ ہی اپناخدا بنا لیں گے!

قریب گھر کے ہی اک بتکدہ بنالیں گے!!

 

بدل رہے ہیں ہر اک راستہ ہر اک کوچے!

کوئی ملے تو اسے رہنما بنالیں گے!!

 

نہ آۓ گا کبھی الزام بت فروشی کا!

صنم تراش کے اپناخدا بنالیں گے!!

 

سبھی کے سامنے اپنا خدا نہ آۓ گا!

اسے چھپا نے کو اک آسرا بنا لیں گے!!

 

کریں گے روز پرستش جھکائیں گے سرکو!

حسین چہرہ کو ہم دلربا بنالیں گے!!

 

رہے گا ہم کو نہ اندیشہ ڈو بنے کا کبھی!

بھنور کی لہروں کو ہم نا خدا بنالیں گے!!

 

نقاب اسنے اٹھایا ہے اپنے رخ سے مگر!

تجلیات کو پردہ ذرا بنالیں گے!!

 

جہاں پر ختم ہیں دیرو حرم کے ہر رستے!

وہی سے اپنا بھی ہم راشتہ بنالیں گے!!

 

رہے گا فرق نہ انتا آنا میں اے داور!

کسی کی بات کو اپنی صدا بنالیں گے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔