قدموں میں تم جگہ دو بندہ نواز خواجا
بندے کا غم بھلا دو بندہ نواز خواجہ
ہم مصطفیٰ کے خادم عاشق تمہارے آقا
ہم کو بھی کچھ صلہ دو بندہ نواز خواجہ
گیئسو بچھا کے اپنے مرشد کو تم اٹھائے
ہم کو ذرا سیکھا دو بندہ نواز خواجہ
گیٔسو دراز آقا ہم بے کسوں کے سر پر
گیسو ذرا اُڑھا دو بنده نواز خواجه
کعبے کی جالیاں ھیں گیسو دراز اپنے
سجدے کروں بچھا دو بندہ نواز خواجہ
ہر اولیاء تمہاری پرواز جانتے ھیں
واقف مجھے کرا دو بندہ نواز خواجہ
داور تمہارا خادم قدموں میں آکھڑا ہے
تم اِسکو آسرا دو بندہ نواز خواجہ