کہتے ہے جسے گوہر قطرہ نظر آتا ہے!
وسعت میں اگر دیکھو دریا نظر آتا ہے!!
کینہ ہو بھرا دل میں کافر سے بھی بد تر ہے!
اچھائی اگر ہے تو مولی نظر آتا ہے!!
موسی کو کہاں آنکھیں جو دیکھ سکے جلوہ!
ہم کو تو ہر اک لمحہ جلوہ نظر آ تا ہے!!
کیا شیخ و برہمن بھی پینے لگے انگوری!
دروازے پہ کیوں ہر وقت پر دہ نظر آتا ہے!!
زاہد کو بھی دیکھا ہوں کرتے ہوۓ سجدہ میں!
اس بت کا مقام اب تو اونچا نظر آتا ہے!!
دنیا کی ریا کاری اور جھوٹی عبادت بھی!
زاہد تیرے مسکن میں کیا کیا نظر آ تا ہے!!
کیوں جاؤں حرم کو میں کیوں دھونڈوں و کلیسا میں!
آئینہ ہستی میں چہرہ نظر آتا ہے!!
شاید کہ نمازی نے ایمان بدل ڈالا!
بتخانہ میں اب اس کا قبضہ نظر آ تا ہے!!
اٹھتی ہے نظر میری کعبہ کی طرف داور!
مرشد نظر آتا ہے آقا نظر آتا ہے!!
(روشن ہے منور سے جلوہ نظر آتا ہے
محشر میں بچا نے کو داور چلا آتا ہے)