میں کسی کی یاد میں گم ہوا مجھے آپ اپنا پتہ نہیں!
میں چراغ راہ الست ہوں کبھی آج تک بھی بجھا نہیں!!
میں کسی کے دل کا آمین ہوں کوئی میرے دل میں مکین ہے!
یہ بڑے مزہ کی ہے دل لگی مرا یار مجھ سے جدا نہیں!!
بڑ الطف ہے یہ فراق میں اسے رکھ لیا ہے تو طاق میں!
جو اتر کے آیا ہے عرش سے وہ صنم سے کیوں تو ملانہیں!!
مرا جسم ایک وجود ہے سر ہست ہے غم بود ہے!
میری سیر عرش علی تلک میں عدم کی راہ گیا نہیں!!
وہ کریم ہے وہ رحیم ہے وہی قہر ہے وہی جبر ہے!
وہ نواز دے کہ مٹا دے اب مجھے اس سے کوئی گلا نہیں!!
اسے میں تلاش کروں بھی کیا وہ یہاں بھی ہے وہ وہاں بھی ہے!
مجھے عرش پر بھی ملا ہے وہ کبھی فرش سے بھی جدا نہیں!!
میں صدائے نحن بھی سن چکا وہ میری نظر کے قریب ہے!
وہ جو ہوتا داور دوسرا تو میں کہتا اس کا پتہ نہیں!!