غوث الوریٰ میں ہوں خادِم تمہارا
خادم کو ہے بس تمہارا سہارا
امداد کیوں کر زمانے سے مانگوں
کہ مجھکو تو ہے بس تمہارا سہارا
تم بن میرا کوئی حامی نہیں ہے
مشکل میں ہے تمکو خادم پکارا
رنج و مصیبت میں ہے میری کشتی
پھنسی غوثِ اعظم لگا دو کنارا
کہ تم ناخدا بنکے گر نہ بچائے
نہیں دیکھ پائیگی ہرگز کنارا
یہ خادِم کی فریاد اور التجا کو
تم نہ سنیں گے تو ہے کون چارا
یہ فریاد سن کر کے دلشاد کرنا
خادِم صدا دے رہا ہے تمہارا
میں غوثِ پیا کے چمن کا ہوں بلبل
یہ بلبل کا ہو وہ چمن میں گزرا
داور کا جینا ہے غوث الوریٰ سے
بس اس کے سوا کچھ نہیں ہے گوارا