مقام دل کو جو پہونچو تو راہ ملتی ہے!
کہ اک حسینہ کی وہ جلوہ گاہ ملتی ہے!!
حضور دل پہ ذرا دیکے دیکھو تم آواز!
کہ پردہ دار سے فوراً نگاہ ملتی ہے!!
عطا ہوئی ہے جوانی بھی حسن یوسف سے!
کہ ایک بوڑھی زلیخا کو چاہ ملتی ہے!!
الٹنا پڑتا ہے عاشق کو سینکڑوں چلمن!
بڑے نصیب سے وہ بارگاہ ملتی ہے!!
اثر بھی شرم سے تا شیر ڈھونڈ لیتا ہے!
در قبول سے جس وقت آہ ملتی ہے!!
نماز وہ ہے ریا کا نہ دخل ہو جس میں!
اسی لئے تو سزاۓ گناہ ملتی ہے!!
ہر ایک در پہ یہ بندہ ہوا ہے شرمندہ!
وہ ایک در ہے جہاں پر پناہ ملتی ہے!!
کوئی بھی درمیاں آنے نہ پاۓ حضرت دل!
ہماری آج کسی سے نگاہ ملتی ہے!!
یہ ستم ہے کہ بزم سخن میں اے داور!
ہزاروں شعروں پہ بس ایک واہ ملتی ہے!!