مجھے بھی آپ کا جلوہ دکھا دوغوثِ یزدانی
میرے محبوبِ سُبحانی میرے محبوبِ سُبحانی
تمہاری دید دکھلاکر کرو حسرت میری پُوری
دکھا دو آپ کا چہرہ میرے معشوقِ رحمانی
میری عزت بڑھے گی آپ کا دیدار اگر ہوگا
میری عزت بڑھا دو شرف بخشو غوثِ جیلانی
کرٔونگا دُونوں عَالم میں میں بس اس بات کا چرچہ
مجھے دیدار بخشے ھیں سبھی ولیوں کے سُلطانی
مجھے دیدار سے ایک بارکر دو سرفراز آقا
کرئینگے دین و دنیا میری عزت غوثِ صمدانی
تمہارا چاند سا چہرہ اگر اک بار دیکھوں گا
تصوّر تا قیامت تک رہے گا مجھکو نورانی
جہاں والوں کو دیدینا خزانے مال دولت سب
عطا کر دو یہ داور کو بھی شرف اللہ کے جانی