٨١۔ تو میرے قابل نہ تھا

 

 

تیرے رہنے کیلئے مسکن مرا کیا دل نہ تھا!

میں  تیرے قابل نہ تھا یا تو میرے قابل نہ تھا!!

 

کر چکا ہوں ہوش کے عالم میں تکمیل جنوں!

قیس کے مانند میں دیوانہ محفل نہ تھا!!

 

اک ذرا گردن جھکائی دیکھ لی صورت تری!

تجھ کو پالینا تو میرے واسطے مشکل نہ تھا!!

 

نفس امارہ کا مجھکو اب تو اندیشہ نہیں!

قتل اسکو کردیا ہوں جو مرا قاتل نہ تھا!!

 

کیا ڈبوتی میری کشتی کو تلاطم کی لہر!

زور طوفاں تھا مگر غارت گر ساحل نہ تھا!!

 

چار عنصر سے مکمل کر دیا تو نے مجھے!

تو ہی اب ایمان سے کہدے کہ تو شامل نہ تھا!!

 

میل اگر حاصل کہوں تو ہے تکبر کی یہ بات!

حاصل ایماں یہی ہے مجھکو کچھ حاصل نہ تھا!!

 

راہبر تھا ساتھ میری رہبری کے واسطے!

ناز ہے مجھ کو کہ میں گم کردہ منزل نہ تھا!!

 

یہ رفیقی فیض ہے اور ہے منور کا کرم!

کون کہتا ہے کہ داور مرشد کامل نہ تھا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔