بعد مدت کے بھی ہاتھوں میں نہ جام آیا تو کیا!
انکی بزم ناز سے اک تشنہ کام آیا تو کیا!!
جسقدر تھی فرض ہم پر ہو چکی پوری نماز!
اب ہمارے واسطے اذن قیام آیا تو کیا!!
آگ کو گلزار بنتے ہم نے دیکھا ہے ابھی!
عشق والفت میں اگر ایسا مقام آیا تو کیا!!
دل کی فطرت ہے دھڑکنا کیا غرض آرام سے!
ان کی جانب سے تسلی کا پیام آیا تو کیا!!
پھیر دیں ہم نے نگاہیں یاد کر کر کے انھیں!
نامہ بران کا اگر بعد سلام آیا تو کیا!!
تھی رسائی کس بلندی پر جنون عشق کی!
ہوش مندوں میں اگر میرا بھی نام آیا تو کیا!!
میکشی سے باز ہم داور نہ آئیںگے کبھی!
زاہدوں کے منہ تلک آنا تھا حرام آیا تو کیا!!