٧- کلام کرتا ہوں

 

 

میں جسکا بندہ ہوں اسکا کلام کرتا ہوں

غلام جس کا ہوں اس کا ہی کام کرتا ہوں

 

میری نماز میں قعدہ نہیں قیام نہیں

میں ایک سجدے میں ہی صبح شام کرتا ہوں

 

میرا کلام فرشتے سمجھ نہیں سکتے

کفر کہے تو کہے وہ کلام کرتا ہوں

 

زباں خموش رہی پر وصال ہوتا ہے

خموش رہ کے بھی باتیں تمام کرتا ہوں

 

جہاں رسائی فرشتوں کی ہو نہیں سکتی

اسی جگہ پہ ہمیشہ مقام کرتا ہوں

 

کہ رب ہو سامنے کعبہ کا احترام کہاں

میں دل کے کعبہ میں رب کو امام کرتا ہوں

 

حشر کے دن میرے آقا کی ساری امت کو

برادری رہے داور وہ کام کرتا ہوں

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔