جَناب غوث خُدا کے وزیر کہتا ہوں
دلوں کو جانتے روشن ضمیر کہتا ہوں
انہیں بنایا ہے روشن چَراغ کے مَانند
چراغ نورِ سراج المنیر کہتا ہوں
ہے ناز بندوں پہ کرتا خدا ہمیشہ ہے
میں وہ بشیر کو کامل فقیر کہت ہوں
سبھی شنہشاہ زمانے کے مانگتے اُن سے
نوازتے ھیں وہ غیبی کبیر کہتا ہوں
جنابِ غوث کو بخشا ہے قادری رتبہ
وہ شاہی پیر کو قادرِ قدیر کہتا ہوں
فریاد رس ہیں وہ امداد ہر گھڑی کرتے
مدد وہ کرتے ھیں میں دستگیر کہتا ہوں
خدا کی ذات سے رشتہ ہے اُنکا اے داور
یہی بشر کو بقا ہے نظیر کہتا ہوں