میرے درد دل کی دوا تو بتاؤ!
سر بزم اہل وفا تو بتاؤ!!
ابھی میں جھکادوں جبین محبت!
مگر پہلے مجھ کو خدا تو بتاؤ!!
میں خود ڈھونڈ لوں گا اسے ایک پل میں!
ذرا مجھکو اس کا پتہ تو بتاؤ!!
یہاں اپنے والے بے گانے ہوے ہیں!
کروں آج کس سے گلہ تو بتاؤ!!
تلاش خدا میں نکلا ہوں گھر سے!
مجھے اب رہ بتکدہ تو بتاؤ!!
ہمیشہ الٹ پھر کی باتیں زاہد!
تمہیں آج کیا ہو گیا تو بتاؤ!!
یہ کیا اج مسجد میں بیٹھے ہو داور!
یہاں کون ہے آشنا تو بتاؤ!!