پہلے جو عبد تھا وہی معبود ہوگیا!
ان کار کرنے والا تو مردود ہوگیا!!
آدم کو کہہ دیا کہ تو ہی میرا راز ہے!
جس نے بنایا خود وہی موجود ہوگیا!!
کوئی سمجھ سکا نہ یہ قدرت کے بھید کو!
موجود ہو کے سب کا وہ مسجود ہو گیا!!
مرشد سے اپنے پالئے رب العلی کو ہم!
جو پیر ہے ہمارا وہ مسعود ہوگیا!!
انی انا کو کہنا یہ آسان تو نہیں!
فرعون کوئی اور کوئی نمرود ہو گیا!!
لا ہوت کے مقام پہ انی انا درست!
حامد کوئی بنا کوئی محمود ہوگیا!!
داور میری زباں پہ ان الحق کی ہے صدا!
آواز دینے والا ہی موجود ہوگیا!!