٧٧۔ منقبت

 

 

فریاد رس ہمارے سرکار غوثِ اعظم

محبوب ھیں خدا کے دلدار غوثِ اعظم

 

عرش بریں پہ کاندھا سرکار کو دیئے ہیں

سرتاج اولیاء ہیں سرکار غوثِ اعظم

 

محتاج اُن سے مِل کر سَرتاج بن گیا ہے

امداد کا وہ در ہے دربارِ غوثِ اعظم

 

زندہ کئے ہیں مُردے ٹھوکر سے مار کر کے

دکھلائے ھیں کرشمے کئی بار غوثِ اعظم

 

غوث الوریٰ کی اُلفت چوروں سے پوچھ لینا

ابدال کر کے چھوڑے سرشار غوثِ اعظم

 

کشتی کو ڈوب کر کے مدّت گزر گئی تھی

پھر سے نکالے زندہ کئے پار غوثِ اعظم

 

داور تمہاری قسمت پھر سو نہیں سکے گی

داور کو کر دیئے ہیں بیدار غوثِ اعظم

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔