٧٦۔ ہر اولیاء کو ناز ھے

 

 

عظمت میں کیا کروں بیَاں روشن ضمیر کی

دونوں جہاں میں شان ہے پیران پیر کی

 

غوث الوریٰ کے واقعے کچھ کم نہیں مگر

زنده کرامتیں ھیں وہ کامل فقیر کی

 

ہر اولیاء کو ناز ہے رھبر ہیں غوث پاک

لاکھوں ہیں مہربانیاں اب دستگیر کی

 

عشقِ محمدی کا سمندر ھیں غوث پاک

ہم مثلِ کشتیاں ھیں اُسی بے نظیر کی

 

ہم آج دیندار ھیں اُن کے طفیل سے

دل میں جو روشنی ہے خُدا کے منیر کی

 

زمبیل چھین لی تھی فرشتے کے ہاتھ سے

جُرت جنابِ غوث کی عبدِ قدیر کی

 

ٹھوکر لگا کے مُردے جِلانا تھا اُنکو کھیل

داور خُدا کی مرضی تھی روشن ضمیر کی

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔