٧٦۔ سجدہ میں جاکے پی

 

 

پینے کا شوق اگر ہے تو سر کو کٹا کے پی!

وحدت کو دیکھ اور تو کثرت میں آکے پی!!

 

برزخ بدلنا کوئی نئی بات تو نہیں!

سیماب کشتہ بن کے تماشا دکھا کے پی!!

 

دل کی جو آنکھ ہے اسے ساغر میں گھول دے!

دنیا نہ دیکھ اپنی خودی کو مٹا کے پی!!

 

پینے کا جب مزہ ہے کہ آئے نہ ہوش بھی!

مرشد کو کر تو سجدہ نظر کو ملا کے پی!!

 

احمد کے میکدہ سے احمد کا تو جام لے!

پھر اس کے بعد میم کا پردہ اٹھا کے پی!!

 

تو قم باذنی بول کے جا سوئے میکدہ!

بستر پہ جو ہے مردہ تو اس کو اٹھا کے پی!!

 

تنہاکی میکشی سے کوئی فائدہ نہیں!

منصور کو پکار اور سولی پہ جاکے پی!

 

ہے نام اس کا نشہ کہ ہو بے خودی بھی ساتھ!

اس واسطے خودی کو تو اپنی مٹا کے پی!!

 

داور ملے گی تجھ کو رفیق آقا سے شراب!

چوم آستان پاک کو سجدہ میں جاکے پی!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔