٧٥۔ غوث والا پہ دل سے

 

 

غوث والا پہ دل سے بلہر ہے

جان وہ دل غوث پر سے نثار ہے

 

پیر پیروں کے ہیں میرے شاہ زمن

شہر بغداد ہے خاص اپنا وطن

شاہ جیلان کا بغداد مزار ہے

 

ایک راوی سے ہے ایک کرامت آپ کی

کوئی جانے نہ جانے، خدا ہے گواہ

کر رہا ہوں بیان اظہار ہے

 

چند لڑکوں کے تھے آپ ساتھ ہی جناب

کھیلتے تھے جو، لڑکوں سے گولی شتاب

دل لبھاتے تھے وہاں پر سرکار ہے

 

آپ شامل ہوئے کھیل میں جب وہاں

کھیلتے تھے وہاں آپ غوث زماں

کھیل کیا جم گیا تھا ایک بار ہے

 

ایک لڑکے کی گولی کو مارے جناب

مار باقی ہوا آپ کو وہ صاحب

باقی لے بھاگا لڑکا، فرار ہے

 

گھر میں جب جا کے لڑکا وہ داخل ہوا

ایک بیک کھا کے غش وہ گرا مر گیا

موت کیا خوب تھی ایک بار ہے

 

دوست اقارب، جمع ہو گئے ہیں تمام

دفن کی تیاری کر ڈالی مل خاص و عام

لے، جنازہ ہوا گھر سے باہر ہے

 

لوگ میں مچ گیا ایک غوغا ادھر

کھیل سے گھر کو آیا کیا وہ سفر

کیا ہے یہ بھید نادر، گفتار ہے

 

جس جگہ کھیلتے تھے وہ پیروں کے پیر

لڑکے ہمراہ کہنے لگے دستگیر

اے وہ میت ہے جو لڑکا فرار ہے

 

آپ کا مار باقی وہ لے کر گیا

جب وہ آیا ہے دیکھو اے مردہ بنا

باقی پوچھو اے جاتا مزار ہے

 

آپ کا مار باقی نہیں ہے دیا

ہو خراج دار جاتا جنازہ چڑھا

وہی لڑکا جو یہاں سے فرار ہے

 

غوث والا نے کہنے لگے بھائی جان

وہ جنازہ ادھر لاؤ، دیکھوں جوان

دیکھ بولا کہاں جات مار ہے

 

غوث والا کے منہ سے یہ نکلا شتاب

کود لڑکا جنازے سے بولا جواب

بولا، کھیلو میں دیتا ہوں مار ہے

 

دیکھ حالت کو میت کی عالم تمام

قدم پر غوث کے گرے یہودی مدام

دین اپنا قبولے ایک بار ہے

 

ہے تمہارا منور علی شاہ غلام

دست بستہ، کھڑا در پہ ہے اے مدام

آپ سے اس کی ارمان چار ہے

 

سر پہ سایہ، مریدوں کے اپنا رہے

مقصد ہر ایک کا بر آئے جو آپ سے

ہیں یہ اپنے غلاماں سرکار ہے

 

بھر دو نور حقیقی سے سینے تمام

فیض اپنا رہے، خادموں پر مدام

دعا منور کی تم سے ہر بار ہے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔