چمکتا شیشہ جھلکتا ساغر شراب آدھی گلاب آدھا!
پلا رہے ہیں ہمارے داور شراب آدھی گلاب آدھا!!
یہاں ہیں میکش وہاں ہیں ساقی نظر نظر میں نہ فرق باقی!
وہ دے رہے ہیں ہمیں یہ کہکر شراب ادھی گلاب آدها!!
خودی کے نشے میں جھومتے ہیں ہم اپنی مستی میں گھومتے ہیں!
خراب ظاہر ہوئے ہیں پی کر شراب آدھی گلاب آدھا!!
حرم و کعبہ میں جا تو زاہد ہماری مسجد تو میکدہ ہے!
پئیں گے دل سے وضو بناکر شراب آدھی گلاب آدھا!!
وہ عرش میرا یہ فرش میرا وہ طور میرا یہ دار میرا!
میں پی رہا ہوں ملا ملا کر شراب آدھی گلاب آدھا!!
آٹھا کے ساغر جو دیکھا میں نے مرا صنم ہی چھپا ہوا تھا!
عروج پر ہے میرا مقدر شراب آدھی گلاب آ دھا!!
رفیق ساقی سدا سلامت ہے یاد ان کی میری عبادت!
بہا کے آنسو کہے ہیں داور شراب آدھی گلاب آدھا!!