٧١۔ خدا خدا کرکے

 

 

دل کو ہم ایک بتکدہ کر کے!

خود کو پائے خدا خدا کر کے!!

 

آپ اپنے پہ ہو گیا شیدا!

روبرو ایک آئینہ کرکے!!

 

تم کو آواز دے رہا ہوں میں!

چھپ گئے تم نئی ادا کر کے!!

 

تم بھی میرے ہو میں تمہارا ہوں!

کون کہتا ہے دوسرا کرکے!!

 

ہر صنم کو زبان ہوتی ہے!

کچھ نہ کچھ ہو گا التجا کر کے!!

 

تم کو چھپنا ہے صاف چھپ جاؤ!

فائدہ کیا ہے اسرا کر کے!!

 

نازان کو جفا پہ ہے اپنی!

ہم تو رسوا ہوئے وفا کر کے!!

 

ساری دنیا ہے ان کے قدموں پر!

ایک سجدہ مجھے روا کر کے!!

 

میں وہ موسی نہیں ہوں اے داور!

ہوش کھو بیٹوں گا صدا کر کے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔