٧٠۔ میں اپنی صورت بنا رہا ہوں

 

 

مقام انحد سے میں گزر کر دئی کا پردہ ہٹا رہا ہوں!

تمہاری صورت کا عکس لیکر میں اپنی صور بنا رہا ہوں!!

 

میں آئینہ ہوں تو عکس مجھ میں ہے فرق اتنا  تیرے میرے میں!

نظر نظر میں تجھے سماکر میں اپنے دل میں بسارہا ہوں!!

 

فلک سے جسدم لطلب ہوئی ہے رسائی میری کوئی یہ دیکھے!

جہاں نہ جبریل جاسکے ہیں وہاں سے آگے میں جارہا ہوں!!

 

بنا کے آدم کا ایک پتلا بنانے والا خود اس میں پہونچا!

جو دیکھا گردن جھکا کے اس کو میں آپ اپنے کو پارہا ہوں!!

 

کھلے نہ گنج خفی کسی پر یہ راز باطن کوئی نہ جانے!

اسی لئے تو میں وقت بعیت زبان اپنی کٹا رہا ہوں!!

 

من عرف منزل میں جو ہے پہونچا قدعرف کہنا پڑا ہے اس کو

میں بتکدہ کے بس اک صنم پر یہ اپنی ہستی مٹا رہا ہوں!!

 

میں دید بازوں میں ہوں سخنور کئے ہیں مجھ پر کرم منور!

رفیق آقا کو آج داور میں اپنی نظروں میں پا رہا ہوں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔