رُباعی
کربل کا واقِعہ میں بتاتا ہوں دوستو
کربل میں کیا ہوا ہے دکھاتا ہوں دوستو
تھا مو جگر کو پہلے پھر یہ داستان سُنو
حالات کربلا کے سناتا ہوں دوستو
فَاطِمہ والے
زمین کربلا کی یہ روکر کہی ہے
حُسین ابنِ حیدر یہاں آج بھی ہے
بولا یزید آؤ یہاں اہتمام ہے
آؤ حُسین آپ ہمارا سلام ہے
ہم سَاتھ ہیں تمہارے تنہا چلے آؤ
بیعت کریں گے آپ سے سب انتظام ہے
حُسین بولے میں تنہا ہی کیسے آؤں گا
میں اپنے ساتھ میں لشکر بھی میرا لاؤں گا
یزید بولا کہ لشکر کی کیا ضرورت ہے
حُسین بولے میں آکر تمہیں بتاؤں گا
یزید بولا ہم سارے تمہارے ساتھ میں ہیں
ہم سب کے سب ہی یقینا ایک بات میں ہیں
یقین دلایا امام حُسین کو ہے یزید
بُلایا دھوکے سے حسنین کو وہاں پہ پلید
حُسین نکلے بہاتّر کو ساتھ میں لے کر
وہ سب ہمارے ہیں کوفے میں ساتھیاں لے کر
ہماری فوج سے بڑھ کر کے اُنکی فوجیں ہیں
تھے انکے ساتھ میں عباس بھی علم لے کر
حُسین کے ساتھ فقط صِرف ان کا کُنبَہ تھا
نہ دوسرا کوئی بَاھَر ایک بچہ تھا
نہتے نِکلے تھے سب گھر سے فاطِمہ والے
کئے تھے سازشیں پہلے ہی سے کوفیہ والے
کہ جیسے پہنچے وہاں مُرتضیٰ کے گھر والے
تو آکے گھیر لئے شمر کے لشکر والے
تو بڑھ کے کہنے لگے آؤ اے امام آؤ
کہ جتنے ساتھ میں آئے ہیں وہ تمام آؤ
تو جَم گئے سبھی کربلا کے میدان میں
سَب آکے کہنے لگے کربلا کے میداں میں
تمہیں بُلائے ہیں بس اتنی بات کرنے کو
نہیں بُلائے تمہیں لڑنے اور جھگڑنے کو
بس اِتنا سُننا ہی تھا پوچھے اِمام حُسین انسے
ارادہ کیا ہے تمہارا بتاؤ صاف ہم سے
تو بولے سَب نے تم دینِ معرفت چھوڑو
تم ہم سے بیت کرو اور ہمارے ساتھ ہو لو
حُسین بولے تمہاری یہ شرط نہیں منظور
ہمارے آگے سے ہٹ جَاؤ اور نِکلو دُور
تم دھوکہ باز ہو منشاء تمہارا گندہ ہے
تم بد خِصال ہو یہ ہی تمہارا دھندہ ہے
غضب میں آگئے کُفّار مشرکیں سارے
حُسین والوں پہ تب ہی لگادیئے پہرے
حُسین والوں پہ ظالم بڑے ستم ڈھائے
تو ان کے واسطے پانی بھی بند کر ڈالے
تو بھو کے پیاسے ہی کچھ دن گزر گئے ان پر
تو کوفے والے نہ کیا کیا سِتم کئے ان پر
شمر لیٔنوں نے کییُوں کو قتل کر ڈالا
اور چھوٹے بچوں کو بھی ظالِموں نے نہ بخشا
وہاں کا واقعہ تفضِیل سے سنوگے اگر
کلیجہ پَھٹ جائے گا خون روئیگی یہ نظر
حُسین لاکھوں کے چھکّے وہاں چھڑاڈالے
اور وقت آخر سجدے میں سر کٹا ڈالے
یہ واقِعہ تمہیں پھر اور کبھی سناؤں گا
ہوا تھا کوفے میں کیا کیا تمہیں بتاؤں گا
زمینِ کربلا دیکھی ہے خون کا منظر
یہ کیسے سہہ لیا کربل کا واقِعَہ داور