٦٧- وِلایت مِلی ہے

 

 

یہی میرے رہبر کے گھر کی گلی ہے

اِسی گھر سے سب کو وِلایت مِلی ہے

 

ولایت کا دَر بَار یہ انجُمن ہے

اِسی انجُمن سے فقیری چَلی ہے

 

شہنشاہیت کو بھی ٹھوکر لگا کر

شہنشاہ کہے ہیں فقیری بھَلی ہے

 

یہاں فیض رحمت برستی ہے ہَر دَم

نہر بن کے رحمت یہیں سے چلی ہے

 

عَلیِ مرتضےٰ کی ہے صورت خُدا کی

خُدا خود کہا میری صُورَت علی ہے

 

چلو مومنوں تم اُسی گھر کا رستہ

اِسی گھر کی منزِل میں سرِّ چلی ہے

 

اے داور رفیقوں کا سانچہ نہیں ہے

ڈھلایا ہے صُورت جو خود کی ڈھلی ہے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔