ترا دل ہے کنت کنزا تجھے کچھ کمی نہیں ہے!
تیرے دل کو توڑنا بھی کوئی دل لگی نہیں ہے!!
مرا دل ہے ایک کعبہ ترا دل سیاہ خانہ!
یہاں روشنی ہے زاہر وہاں روشنی نہیں ہے!!
لیا اس نے مجھ سے گوھر میرے دل سے دل ملاکر!
ہواجگ میں وہ منور اسے کچھ کمی نہیں ہے!!
میرے دل میں اک صنم ہے جسے کرتا ہوں میں سجدا!
میری بندگی کے آگے تیری بندگی نہیں ہے!!
کبھی لا کی سرحدوں میں تو الا کی انحدوں میں!
کبھی قد عرف میں گم ہوں کوئی دل لگی نہیں ہے!!
با حضور قلب صادق ہے نماز بھی ادھوری!
ترا دل ہی خود کہے گا یہ تو بندگی نہیں ہے!!
ہیں رفیق اور منور میرے مرشداں اے داور!
مجھے مل گئے ہیں گوھر مجھے کچھ کمی نہیں ہے!!
(ہوش مند ہوش میں کہدیا ہو گا!
اپنے رنگ میں یار کو دیوانہ رنگ لیا ہو گا!!)