٦٣- ابتدا علی اِنتہا عَلی

 

 

مولائے کائِنات علی مرتضیٰ عَلِی

ہے ابتدا علی علی اور انتہا عَلِی

 

جو مُشکلوں میں ہے وہ علی کو پکارلے

ہیں واقعہ البلا وہی شیرِ خُدا عَلِی

 

اِس نامِ پاک کی ذرا تاثِیر دیکھئے

پوشیدہ کائینات ہے نام خدا عَلِی

 

رب خود کو دیکھنے کی تمنّا اگر کرے

حقاّینت کو دیکھنے کا آئینہ عَلِی

 

عِرفان عَارِفوں کو عَلی سے ہوا عَطا

عِرفان کے خزانے کے ہیں بادشا عَلِی

 

وَصف علی کے واسطے الفاظ ہی نہیں

توصِیف کیا بیان ہو شیر خُدا عَلِی

 

جائے نہ رائیگاں کبھی داور کی التجا

تم کو میرے حضور کا ہے واسطہ عَلِی

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔