٦٣۔ منزل پار کرتے ہیں

 

 

عجب اک رنگ سے ہم اپنی منزل پار کر تے ہیں!

کبھی انکار کرتے ہیں کبھی اقرار کرتے ہیں!!

 

نہ جانے کونسی منزل میں ہوتا ہے جنوں میرا!

کرم کی اک نظر جسدم میرے سرکار کرتے ہیں!!

 

ارے زاہد عبادت کا طریقہ سیکھ لے ہم سے!

بت کافر کو رکھ کر سامنے دیدار کرتے ہیں!!

 

مکاں والے ہیں جتنے وہ مکاں میں مست و بے خودی ہیں!

مگر اہل مکیں تو لا مکاں کو پار کرتے ہیں!!

 

ان الحق کہنے والے موت سے ڈرتے نہیں ہرگز!

وہ اپنے آپ کو اب بھی انہیں دار کرتے ہیں!!

 

کبھی کن اور کبھی فیکن تماشا خوب دکھلائے!

ارادہ دل میں رکھتے ہیں نظر سے دار کرتے ہیں!!

 

رفیق آقا کے قدموں پر رکھا ہوں اپنا سر داور!

مجھے اب دیکھنا ہے کیا میرے سرکار کرتے ہیں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔