٦٠۔ تم چاند بن کے آنا

 

 

میرے دل میں گھر بنا کر مجھ کو نہ بھول جانا!

مجھ کو نہ بول جانا!!

ارمان کہہ رہے ہیں تم چاند بن کے آناہ!

مجھ کو نہ بھول جانا!!

 

وعدہ جو کر کے ہم سے کس جا چھپے ہو بولو!

آجاو میرے مرشد اقرار ہے نبانا!

مجھ کو نہ بھول جانا!!

 

وہ دن جو دل میں میرے اپنا وہ دل سماکر!

پھر تم گئے ہو جب سے مشکل ہواہے جینا!

مجھ کو نہ بھول جانا!!

 

میرے نفس میں شیطاں جھگڑایہ ڈالتا ہے!

تم قتل کر دو اسکو دیکھو نہ بھول جانا!

مجھ کو نہ بھول جانا!!

 

دل کا چراغ میرے کیوں دھیما جل رہا ہے!

آکر چراغ میرا روشن زیادہ کرنا!

مجھ کو نہ بھول جانا!!

 

نادان ہوں میں تیرا در پر  تیرے کھڈا ہوں!

میری خطا کو مرشد آخر تو بخش دینا!

مجھ کو بھول جانا!!

 

عاصی ہوں اور مجرم کرنا نہ دور مجھ کو!

آقا رفیق ہردم داور کے سر پہ رہنا!

مجھ کو نہ بھول جانا!!

 

 

 

(من عرف سے گذر کر قد عرف جان لینا!

اپنی خودی مٹی تو اب کیا رہا ہے بولو!!)

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔