٥- بسم اللہ

 

 

ابتداء  منڈان اول رمز بسم اللہ  ہوا

خاک کے پتلے میں روشن نور نور الله ہوا

 

کلمے کی کل میں نہاں ہے پوشیدہ دونوں جہاں

لا الہ سے ہے یہاں آدم صفی اللہ ہوا

 

لا الہ کا راز ظاهر دیکھ لے ھر ایک وجود

رہنما ہادی مُحمد یہ رسول اللہ ہوا

 

رب کو گر ہے دیکھنا تو مصطفے کو دیکھ لو

ظاهر و باطن بقا ہم کو حبیب اللہ ہوا

 

اول و آخر وہی اور ظاهر و باطن وہی

رمز عرفاں پانے یا رو وہ بقا با اللہ ہوا

 

عارفوں اور عاشقوں کو دم بدم دیدار ہے

ظاہر و باطن تمامی شئے سے وجہ اللہ ہوا

 

دیکھ لو میرے نبی کا باپ نہ بیٹا کوئی

ظاہرا اندھوں نے دیکھا باپ عبد اللہ ہوا

 

رو احمد اور مُحمد اور ہے محمود حق

میرے آقا کی زباں سے بہ کلام اللہ ہوا

 

من عرف  اور قد عرف میں دو جہاں کی سیر ھے

پانے رمز اپنا منور خود فنا فی اللہ  ہوا

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔