٥٩- آئینہ دیکھا

 

 

شب معراج میں جاکر میرے آقا نے کیا دیکھا

وہاں ایک آئینہ تھا آئینہ کو آئینہ دیکھا

 

سوا نور محمد کے نہیں تھا دوسرا کوئی

اُسی نورِ ازل کو یہ جہاں راہِ نُما ا دیکھا

 

محمد مصطفى عرشِ بریں پر تھے احمد بنکر

بدل کر نام وہ اپنا زمیں پر آگیا دیکھا

 

یہ ایک ہی شان کے دو نام ہیں احمد احد لیکن

کوئی سمجھا تو کیا سمجھا کوئی دیکھا تو کیا دیکھا

 

میرے آقا کو جب کہ یاد آیا ھُو کا وہ عَالم

جہاں صدیوں اکیلے تھے وہاں تنہا ہی جا دیکھا

 

یقین جانو جہانِ کُل کا مالِک انفرادی ہے

نبی مختارِ عَالم ہیں نہیں اور دوسرا دیکھا

 

شب معراج اپنے راز کا ایک راز ہے داور

عجب حِکمت محمد کی عجب ایک مَاجرا دیکھا

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔