٥٨۔ دیوانے کہاں جاتے

 

 

حقیقت سامنے آتی تو افسانے کہاں جاتے!

نہ ہوتے روبر و مرشد تو دیوانے کہاں جاتے!!

 

چلو اچھا ہوا دیوانگی کام آگئی ورنہ!

جناب شیخ و زاہد وعظ فرمانے کہاں جاتے!!

 

خزا بھی تو ضروری تھی بہار زندگانی میں!

اگر ہوتے یہاں گلشن تو ویرانے کہاں جاتے!!

 

پیشماں ہوگئی حیرت خود اپنی آپ صورت پر!

نہ ہوتے حسن والے آئینہ جانے کہاں جاتے!!

 

نہ جلتی شمح وحدت اندھیری رات میں تنہا!

تو ہم افسو سے کہتے کہ پروانے کہاں جاتے!!

 

یہی کیا کم ہے ہم کو مل گئے ہیں مرشد کامل!

جنون شوق میں ورنہ خدا جنے کہاں جاتے!!

 

 میرے آقا کی آنکھوں نے بجھادی پیاس اے داور!

وگر نہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے کہاں جاتے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔