صَلّےٰ علیٰ حُضور کا ثانی کوئی نہیں
میرے نبی کے بعد کوئی بھی نبی نہیں
میرے نبی کے صدقے سے روشن ہے کائِنات
اِس روشنی کے بعد کوئی روشنی نہیں
صدقے ہو دو جہان بھی صَدقے ہو کائِنات
یہ عِشق کی زبان ہے دیوانگی نہیں
ہم کو مِلے نبی یہ مقدر کی بات ہے
سب کچھ ملا نصیب سے کچھ بھی کمی نہیں
کُل کائنات نور محمد سے ہے نبی
یہ بات ہے ازل کی مگر آج کی نہیں
وصفِ نبی کے واسطے خاصِر ہے ہر زباں
تعریف ان کی کرنے کو الفاظ ہی نہیں
داور ہوا ہے فیض کی دولت سے سرفراز
دونوں جہاں میں آپ سَا کوئی سخی نہیں