جہاں میں آۓ نبی رحمتِ جہاں ہوکر
ہمارے واسطے آئے ہیں مہرباں ہوکر
بھٹک رہے تھے یہ اہل جہاں اندھیرے میں
نبی کریم چلے آئے ضوفِشاں ہوکر
بھٹک کے سارے نہ جانے کہاں چلے جاتے
سنبھالے ہم کو نبی ہی نے پاسباں ہوکر
نبی کے صدقے سے ایمان کی مِلی دولَت
نبی نہ آتے تو مر جاتے بے ایماں ہوکر
ہمیشہ فِکر میں رہتے ہیں آپ اُمّت کی
بچائے آپ ہیں اُمّت کو مہرباں ہوکر
مِلا وسِیلہ نبی کا تو کامیاب ہوۓ
کرم نہ ہوتا تو ہم جاتے رائیگاں ہوکر
نبی کا دستِ کرم سرَ پہ ہے میرے داور
پکاروں صلی علیٰ کیوں نہ شادماں ہوکر