الہی تو چلا مجھ کو سہارے میرے قادر کے!
میرے آنکھوں میں ہوں ہردم نظارے میرے قادر کے!!
تمہارا نام سنتے ہی تڑپت چیختا ہوں میں!
مجھے دیدار کے بھی ہوں اشارے میرے قادر کے!!
میرے آقا میرے مولی میرے شاہا میرے سرور!
زمیں سے آسماں تک ہیں نظارے میرے قادر کے!!
جسے کہتی ہے دنیا ماہ وانجم کہکشاں اختر!
یہ اک ادنا ہیں ذرے چاند تارے میرے قادر کے!!
حقیقت تھی میری ذرہ کی لیکن بن گیا سورج!
ہوۓ ہیں مجھ میں بھی روشن ستارے میرے قادر کے!!
خضر بن کر میرے مرشد نے میری رہنمائی کی!
ملے رستے میں بھی مجھ کو سہارے میرے قادر کے!!
رفیقی آقا کا اے داور قیامت میں کرم ہوگا!
سر محشر کروں گا میں نظارے میرے قادر کے!!