٥٣- میں گِرتے گِرتے سَنبھل گیا ہوں

 

 

ہوا ہوں جب سے نبی پہ شیدہ میں گِرتے گِرتے سَنبھل گیا ہوں

سِکھا ۓ مجھکو سبق وہ ایسا کُفر سے بچکر نکل گیا ہوں

 

میری فَنا میں بقا چُھپی ہے یقین جانو یقین مَانو

مَرا نہیں ہوں قسم خُدا کی لباسِ ہستی بدل گیا ہوں

 

رسائی میری وہاں تلک ہے جہاں فرشتے نہ جا سکیں گے

میں عِشقِ احمد کو دل میں لے کر وہاں سے آگے نکل گیا ہوں

 

میری عبادت سدا یہی ہے غَمِ نبی کو تلاش کرنا

میں ان کے رستے پر چلتے چلتے انہیں ہی کے سانچے میں ڈھل گیا ہوں

 

ازل سے لیکر میں تا ابد کی یہ زندگی کو ہوں مانگ لایا

اجل بھی حیران ہے ہمیشہ قضا سے بچکر نکل گیا ہوں

 

میں جی رہا ہوں ہے رسم دُنیا جہاں میں رہنا رواج بھی ہے

گزار کر دن جو ھہیں مقرر فنا جہاں سے میں چل گیا ہوں

 

زمانے والو بغور دیکھو مرا نہیں ہوں کیا ہوں پردہ

ہزار صدیوں کے بعد داور لگے گا ایسا کہ کل گیا ہوں

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔