٥٢۔ قادر نگریا

 

 

ہم تو قادر نگریا کو جانے لگے!

ان کے جلوے نظر میں سمانے لگے!!

 

احد و احمد کارستہ بتاۓ تھے وہ!

شکل ترکھوٹ ہم کو دکھائے تھے وہ!

نحن و اقرب کا مطلب سنائے تھے وہ!

راز انی انا کا بھی پانے لگے!!

 

حق ہے دیدار حق حس کو مل جاۓ گا!

پھول اسکی تمنا کا کھیل جائے گا!

اپنے رب سے یقینا وہ مل جاۓ گا!

جام نظروں سے اپنی پلانے لگے!!

 

صوت سرمد میں کلمہ کا عقدہ کھلا!

اور ھو ھو کی آواز ہے معجزا!

جنسے آدم میں بت کا کھلا سلسلہ!

ہم خدا ایک بت کو بنانے لگے!

 

میرے مرشد نے کلمہ کو زندہ کیا!

میرے دل پر وہ کلمہ کندہ کیا!

شکل انساں میں مجھ کو پرندہ کیا!

بال و پر پہ وہ کلمہ آڑانے لگے!

 

جسم میں میرے اک جاں عجب آگئی!

جو تھی نا سوت ملکوت کو پا گئی!

اور جبروت کو یہ آدا بھا گئی!

راز لاہوت داور بھی پا نے لگے!!

 

 

پی کے قطرے کو داور صدف بن گئے!

اسی قطرے سے موتی بکھر نے لگے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔