٤٧۔ میرے دل میں ہے مدینہ

 

 

میں گدائے مصطفےا ہوں مجھے مل گیا خرینہ!

 میری  آنکھ میں ہے مکہ میرے دل میں ہے مدینہ!!

 

ہے رسائی کی تمنا در مصطفےا پہ جاؤں!

وہیں ہے خدائے اکبر و ہیں عرش کا ہے زینہ!!

 

یہ گلاب و عطر ان سے سدا مانگتے ہیں خوشبو!

ہے چمن سے بھی معطر شہہ دین کا پسینہ!!

 

مجھے خوف موج کیوں ہو مجھےکیوں غم تلاطم!

ہے سہارے مصطفےا کے میرے عشق کا سفینہ!!

 

وہ لحد کے بھی اندھرے مجھے کیا ڈرا سکیں گے!

 میرے سینے میں ہے روشن بڑا قیمتی نگینہ!!

 

کوئی میرے دل سے پوچھے  میری  ہر خوشی کو پیہم!

 میرے ہاتھ آگیا ہے سرحشر کا خرینہ!!

 

یہ میرے رفیق آقا کا کرم ہے مجھ پہ داور!

 میرے پیچھے رہ گیا کعبہ میرے آگے ہے مدینہ!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔