٤٦۔ محمد سِرِ گوھر ہے

 

 

محمد سِرِ گوھر ہے کوئی جانانہ پہچانا

وہی اک نورِ اختر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

وہی خَالق سے واصِل ہے وہی مخلوق میں شامِل

عجب کچھ بھید نادر ہے کوئی جانا نہ پہنچانا

 

وہی اول سے اول ہے وہی آخر سے آخر ہے

وہی باطن سے ظاہر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

وہ تھے تِرسٹھ برس دُنیا میں آکر بنکے پیغمبر

اَنا اَنتَا سے ظاہر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

وہ جَلوہ خاص تھا خود نحن اقرب بولا قرآن میں

یہ آیت سَب سے نادر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

محمد سرِ حق ہے ذاتِ مطلق افضل و اکمل

مُعمہ رازِ دیگر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

ہمارا دِل بھی کیا دل ہے عجیب نورانی مسکن ہے

اِسی میں اپنا دلبر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

وہی ہے جلوہ فرما بَاغِ عَالم میں ہمیشہ سے

مگریاں لوگ در در ہیں کوئی جانانہ پہچانا

 

نہیں ہے دوسرا دیگر الانسان سِرِ وہ کہہ کر

یہی من عرف سے ظاہر ہے کوئی جانا نہ پہنچانا

 

یہی ہے رَمزِ عرفاں نُورِ وحدت گنجِ مخفی بھی

یہی قد عرف سے اکثر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

 

مُنور عشقِ احمد کا معدن روزِ اول سے

اسی کا راز دیگر ہے کوئی جانا نہ پہچانا

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔