٤٦۔ سنور جاتا تو اچھا تھا

 

 

مدینے والے کے قدموں میں مر جاتا تو اچھا تھا!

مقدر انکی چوکھٹ پر سنور جاتا تو اچھا تھا!!

 

مدینہ جاکے کیوں تو لوٹ آیا اپنے گھر ناداں!

ارے کمبخت ان کے در پہ مرجاتا تو اچھا تھا!!

 

موذن کیوں زباں پر لارہا ہے نام حضرت کا!

بلال حبشی بن وقت سحر جاتا تو اچھا تھا!!

 

کٹایا کربلا میں فاطمہ کے لال نے سر کو!

اے زاہد سجدہ میں تیرا بھی سر جاتا تو اچاتھا!!

 

گیا تھا خر بھی اک دن حج کی خاطر ساتھ عیس کے!

وہ حاجی اگر بن کے گزر جاتا تو اچھا تھا!!

 

پیا ہے شیخ تونے وصل حق کا ایک پیمانہ!

تو بے ہوشی کے عالم میں ہی رہ جاتا تو اچھا تھا!!

 

منور کے غلاموں میں ہوں داور فخر ہے مجھکو!

رفیق آقا کے سنگے در پہ مرجاتا تو اچھا تھا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔