شافعِ محشر ساقی کوثر ہم نے پیا ہے جام تمہارا
وِرد زباں پر میری ہمیشہ رہنے لگا ہے نام تمہارا
سب سے بھلے یا سب سے بُرے ہیں کچھ بھی ہیں لیکن آپکے خادم
روزِ حَشر یا حامیِٔ اُمت ہم کو بچانا کام تمہارا
پیدا ہوئے ہم بند تھی آنکھیں آنکھ کھُلی تو آپکو دیکھے
سیکھے سبق اتناسا عُمر بھر کافی ہے ہمکو نام تمہارا
نہ تو وضو آتا ہے مجھکو نہ تو نماز آتی ہے مجھکو
سر کو جُھکا لیتا ہوں سُنکر جب آتا ہے نام تمہارا
زاهد و مُلّا کر کے دکھاوا عَین عبادت بھول گئے ہیں
فیضِ ہدایت بیر ہے انسے کیسے وہ لے الہام تمھارا
نامِ خدا اور نام محمد کافی ہے مجھکو لحد میں بچنے
مُنکر و نکیر جب آئیں لحد میں کہہ دونگا پیغام تمہارا
کر کے کِنارہ اس دُنیا سے عِشق میں داور ڈوب گیا ہے
ایک ہی ذکر اور ایک وظیفہ صبح سے لیکر شام تمہارا