٤٤۔ جھولا

 

 

خدانے عرش سے بھیجا شہہ ابرار کا جھولا!

 میرے محسن میرے آقا میرے دلدار کا جھولا!!

 

مزمل سورہ یسین ہے جھولے کی ڈوری میں!

طحہ بھی ساتھ لایا احمد مختار کا جھولا!!

 

جھلانے کے لئے خلدبریں سے حوریں آتی ہیں!

نرالی شان والا ہے میرے سرکار کا جھولا!!

 

کھڑے رہتے ہیں بیماروں کی صف میں حضرت عیسی!

کہ غمخو اروں کی خاطر ہے میرے غمخوار کا جھولا!!

 

ہزاروں یوسف کنعان جھولے پر نچھاور ہیں!

زلیخا یہ نہیں ہے مصر کے بازار کا جھولا!!

 

جبیں حورونے رکھدی آمینہ کے آستانے پر!

میلا دائی حلیمہ کو رخ انوار کا جھولا!!

 

نہ کیوں قربان جاۓ ایسے جھولے پر رخ کعبہ!

خدا نے خود سجایا سید ابرار کا جھولا!!

 

سر محشر نگاہیں سب کی ٹھہری مجھپہ اے داور!

 میرے حصہ میں آیا ہے رفیقی پیار کا جھولا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔